آیت اللہ خامنہ ای کی موومنٹ کو ٹریفک کیمروں سے ٹریک کیا، انسانی ذریعہ اسرائیل کے پاس نہیں تھا

news 1772553711 9979


(ویب دیسک) ایک مؤقر مغربی نیوز آؤٹ لیٹ نے بتایا ہے کہ تہران میں آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرنے سے پہلے خامنہ ای کو ٹریک کرنے کے لئے اسرائیل نے تہران کے ٹریفک کیمرے ہیک کر لیے تھے، سکیورٹی کیمرے کئی سال سے ہیک تھے، تہران کی ایک ایک انفارمیشن یونٹ8200 کے پاس موجود تھی، واحد انسانی سورس  اسرائیل کے پاس نہین، سی آئی اے کے پاس تھا۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق IDF نے مختلف ذرائع سے مسلسل آ رہے اعداد و شمار کے ذخیرے کی تشریح کے لیے الگورتھم کا استعمال کیا، جس سے وہ اعلیٰ محافظوں کے لیے طرز زندگی کے نمونے بنانے کے قابل ہوا۔ سی آئی اے کے پاسایران کے  سپریم لیڈر پر ہیومن انٹیلی جنس بھی موجود تھی۔

ٹریفک کیمروں کا نیٹ ورک ہیک کیا گیا
فنانشل ٹائمز نے پیر کے روز اس معاملے سے واقف دو افراد کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ، ہفتے کے روز سپریم لیڈر آیت اللی خامنہ ای کے قتل سے قبل آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ ایرانی حکام کے محافظوں کا سراغ لگانے کے لیے اسرائیل نے تہران کے وسیع ٹریفک کیمروں کے نیٹ ورک کو ہیک کیا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ایران کے کیمرے ریاست کے نگرانی کے آلات کا حصہ ہیں، جو حکام کو مظاہرین اور حکومت کے مخالفین کی شناخت اور تعاقب کرنے  میں سہولتیں مہیا کرتے ہیں۔  لیکن موساد، اسرائیل کی جاسوسی ایجنسی، اس نیٹ ورک کو حکومت کے خلاف استعمال کرنے کے لیے آپٹ کرنے میں کامیاب رہی۔

یہ بھی پڑھیئے: ابھی روانہ ہو جاؤ: لاکھوں  امریکیوں کو اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے تقریباً تمام ممالک فوراً چھوڑنے کاحکم

فنانشل ٹائمز نے کہا کہ اسرائیل نے برسوں پہلے تہران کے سکیورٹی کیمروں تک رسائی حاصل کی تھی، اور پتہ چلا کہ ایک خاص کیمرے کو اس طرح سے زاویہ دیا گیا تھا کہ اس سے ظاہر ہو گیا کہ خامنہ ای کی سیکیورٹی ٹیم کے ارکان نے اپنی کاریں کہاں کھڑی کی ہیں۔

خیابانِ پاستور میں سیلولر سروس منقطع کی گئی

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کیمروں کے ذریعے، اسرائیلی انٹیلی جنس نے محافظوں کے پتے، کام کے نظام الاوقات اور انہیں کس کی حفاظت کے لیے تفویض کیا گیا تھا، ان تمام نکات پر فائلیں بنائیں۔

حملے کے دن، اسرائیل اور امریکہ نے تہران کی  خیابانِ پاستور   پر سیلولر سروس کو بھی منقطع کر دیا، جہاں خامنہ ای کو قتل کیا گیا تھا، اس لیے جو لوگ باڈی گارڈز تک پہنچنے اور ممکنہ وارننگ دینے کی کوشش کر رہے تھے، رپورٹ کے مطابق، ان کومصروف سگنلز موصول ہوئےہوں گے۔

ایک اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکار نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ "ہم تہران کو اسی طرح جانتے تھے جیسے ہم یروشلم کو جانتے تھے۔” "اور جب آپ ایک جگہ کو جانتے ہیں اور ساتھ ہی آپ اس گلی کو بھی جانتے ہیں جس میں آپ بڑے ہوتے ہیں، تو آپ کو ہر چیز واضح نظر آتی ہے۔”

news 1772553714 1447
Caption پیر، 2 مارچ، 2026 کو  تہران میں کارکن  ایک اوور پاس پر  ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصویر ہ کا نیا بل بورڈ لگا رہے ہیں۔ 

دیٹا کے پہاڑ اینالائز کئے گئے، زیادہ کام یونٹ 8200 نےکیا
برطانوی روزنامے  فنانشل ٹائمز کے ساتھ بات کرنے والے ایک اہلکار کے مطابق، اسرائیل نے آرٹیفیشل انتیلی جنس ٹولز اور الگورتھم کا استعمال کیا جو اس نے ڈیٹا کے اُن پہاڑوں کو ترتیب دینے کے لیے تیار کیا تھا جو وہ ایران کی قیادت اور ان کی نقل و حرکت پر جمع کر رہا تھا،  اس اہلکارنے کہا کہ زیادہ تر کام IDF کے یونٹ 8200 نے انجام دیا ہے۔

ڈیٹا مائننگ کے بڑے آپریشن نے فوج کو خامنہ ای کو ہفتے کے روز صبح کے وقت ہو رہی اہم میٹنگ تک ٹریک کرنے کی حد تک پہنچایا جہاں خامنہ ای شہید ہو گئے۔ ڈیٹا مائننگ کے کام نے ہی موساد اور سی آئی اے کو یقین دلایا کہ (خامنہ ای کے ساتھ میٹنگ میں)سینئر حکام میٹنگ کے لیے جا رہے ہیں۔

واحد ہیومن سورس اسرائیل نہیں سی آئی اے کے رابطہ میں تھا

ذرائع کے مطابق، سی آئی اے کے پاس ایک انسانی ذریعہ بھی تھا جو اہم انٹیلی جنس فراہم کرتا تھا۔ اس کے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

خامنہ ای، جنہوں نے 1989 میں آیت اللہ خمینی کی وفات کے بعد ان کے وصیت کردہ جانشین کی حیثیت  سے اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت کی تھی، ہفتے کی صبح ایک اسرائیلی فضائی حملے میں امریکی-اسرائیلی ائیر سٹرائیک کے آغاز کے دوران مارے گئے۔ اس سانحہ کے بعد سے  امریکہ اور اسرائیل نے مسلسل حملے کر کے ایران کو  مزید نقصان پہنچایا ہے۔

news 1772553713 5197

 ایران  میں آیت اللہ خامنہ ای کے جانشین کے انتخاب کے لئے انتخاب کرنے کے اہل افراد کا اجلاس اب تک نہیں ہوا۔ 

یہ بھی پڑھیئے:  ایران کے عارضى وزیر دفاع مجید بن الرضا اسرائیلی و امریکی حملے میں جاں بحق 





Source link

متعلقہ پوسٹ