ایران کے خلاف جنگ؛ سپین نے امریکی طیاروں کے لیے فضائی حدود بند کردیں

IMG 20260330 WA2062


میڈرڈ، 30 مارچ 2026 — سپین نے ایک جرأت مندانہ سفارتی اقدام کرتے ہوئے ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کو اپنے فضائی حدود اور فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے صاف انکار کردیا ہے۔
سپینش وزیر دفاع نے اپنے بیان میں واضح الفاظ میں کہا کہ "امریکی طیاروں کو نہ تو ہمارے اڈوں کے استعمال کی اجازت ہے اور نہ ہی ایران کے خلاف جنگ کے لیے فضائی حدود ملیں گی۔” یہ بیان نیٹو اتحادیوں کی جانب سے امریکی فوجی کارروائیوں کے خلاف اب تک کے سب سے سخت ردعمل میں سے ایک ہے۔
وزیر دفاع نے ایران کے خلاف جنگ کو غیر قانونی اور انتہائی ناانصافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ سپین اس فوجی مہم کی بھرپور مخالفت کرتا ہے۔
سپین کا یہ فیصلہ نیٹو اور مغربی اتحادیوں کے درمیان ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی قانونی حیثیت پر بڑھتی ہوئی خلیج کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں واشنگٹن پر سفارتی دباؤ میں نمایاں اضافہ کرے گا جب مشرق وسطیٰ میں تنازع مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
رپورٹ لکھے جانے تک امریکی محکمہ دفاع یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ پوسٹ