کوئٹہ میں پولیس حراست میں نوجوان اسرار قلندرانی کی پراسرار موت، خاندان کا قتل کا الزام

IMG 20260401 WA2305


کوئٹہ (خصوصی رپورٹ): بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے درخشان پولیس چوکی میں ایک نوجوان محمد اسرار قلندرانی (عمر 24-25 سال، کیچی بیگ کا رہائشی) کی حراست میں موت کا واقعہ تنازع کا باعث بن گیا ہے۔ پولیس نے اسے مبینہ خودکشی قرار دیا ہے، جبکہ متاثرہ خاندان اور مقامی لوگ اسے قتل اور تشدیدی تشدد کا نتیجہ بتا رہے ہیں۔
خاندان کے مطابق، اسرار کو تقریباً 5 سے 6 روز قبل نیو سریاب پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ اس دوران وہ غیر قانونی طور پر مختلف تھانوں میں منتقل کیا جاتا رہا، اور کوئی سرکاری ریکارڈ یا قانونی کارروائی سامنے نہیں آئی۔ والد محمد انور کا الزام ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ان کے بیٹے کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر اس کی لاش کو خودکشی کا رنگ دے کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا: "میرے جوان بیٹے کو پولیس نے پھانسی دے کر مار دیا، اور اب قتل کو خودکشی کا نام دیا جا رہا ہے۔”
پولیس کا موقف ہے کہ اسرار نے حوالات میں خودکشی کر لی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق گلے میں پھندے کے نشانات موجود ہیں، جبکہ جسم پر دیگر تشدد کے واضح نشانات نہیں پائے گئے۔ تاہم، خاندان اور انسانی حقوق کے کارکن اس بیان پر شک کا اظہار کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ آزادانہ میڈیکل بورڈ سے دوبارہ پوسٹ مارٹم کروایا جائے۔
یہ واقعہ بلوچستان میں پولیس حراست میں ہونے والی اموات کے سلسلے میں تازہ ترین مثال ہے، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی، غیر قانونی حراست اور ریاستی طاقت کے ممکنہ ناجائز استعمال کے الزامات کو جنم دے رہا ہے۔ مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات انصاف کے نظام پر سیاہ دھبہ ہیں اور قانون کی بالادستی کو چیلنج کرتے ہیں۔
مطالبات:
فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ جوڈیشل انکوائری کروائی جائے۔
درخشان پولیس چوکی کے تمام اہلکاروں کو معطل کیا جائے اور مقدمہ درج کیا جائے۔
متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔
ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
یہ واقعہ بلوچستان میں پولیس اور سیکیورٹی اداروں پر اعتماد کے بحران کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مقامی رہنما اس کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔

متعلقہ پوسٹ