برلن، — جرمنی نے ہرمز آبنائے سے نیوی مائنز ہٹانے کے لیے خصوصی مائن کلیئرنگ جہاز اور کمبیٹ ڈائیورز (کلیئرنس ڈائیونگ ٹیمز) فراہم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، لیکن یہ صرف فعال لڑائی ختم ہونے اور مستحکم سیز فائر کے بعد ممکن ہو گا۔
چانسلر فریڈرک مرز اور دفاعی وزیر بورس پسٹوریس نے واضح کیا کہ جرمنی کی شرکت صرف پوسٹ کانفلکٹ مائن کاؤنٹر میژرز (MCM) آپریشنز تک محدود رہے گی۔ جرمنی جنگ کے دوران کسی بھی جنگی کردار، جہازوں کے اِسکورٹ یا براہ راست لڑائی میں شامل نہیں ہو گا۔ جرمن حکام نے کسی بھی مشن کے لیے واضح بین الاقوامی مینڈیٹ، preferably اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے، کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یہ پیشکش اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان نازک سیز فائر نافذ ہو چکا ہے، لیکن آبنائے میں شپنگ اب بھی شدید پابندیوں کا شکار ہے۔
40 سے زائد ممالک امن بات چیت میں حصہ ڈالنے پر غور کر رہے ہیں
اس سے متعلق ایک اہم پیش رفت میں، برطانیہ نے 2 اپریل 2026 کو 40 سے زائد ممالک (رپورٹس کے مطابق 41 ممالک، تمام براعظموں سے) کے نمائندوں کا ورچوئل اجلاس بلایا تھا۔ اس کا مقصد ہرمز آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی، معاشی اور عملی اقدامات پر بات چیت کرنا تھا۔
برطانوی خارجہ سیکریٹری یویٹ کوپر کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس میں فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، کینیڈا اور متحدہ عرب امارات سمیت متعدد ممالک نے مشترکہ بیان جاری کیا جس میں ایران کے اقدامات کی مذمت کی گئی اور محفوظ بحری نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے "مناسب اقدامات” میں تعاون کی یقین دہانی کی گئی۔
بات چیت کا زیادہ تر زور فوری فوجی کارروائی کی بجائے کثیرالجہتی اور قوانین پر مبنی حل پر تھا۔ متعدد یورپی ممالک، بشمول جرمنی، نے یہ واضح کیا کہ وہ مائن کلیئرنس اور متعلقہ آپریشنز میں صرف پائیدار امن کے بعد حصہ لیں گے۔
ہرمز آبنائے، جو دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور اہم مقدار میں LNG کی نقل و حمل کرتا ہے، میں ٹریفک شدید کمی کا شکار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چند مائنز بھی صاف کرنے میں ہفتوں یا مہینوں لگ سکتے ہیں، جن کے لیے خصوصی جہاز، ریموٹ آپریٹڈ گاڑیاں، سونار اور ڈائیورز درکار ہوں گے۔
اس آبنائے کو مکمل طور پر بحال کرنا عالمی توانائی کی قیمتوں کو مستحکم کرنے اور خوراک و کھاد کی سپلائی میں مزید رکاوٹوں کو روکنے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

