بیکاسی، انڈونیشیا — انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے قریب بیکاسی میں سوموار کی رات دو مسافر ٹرینوں کے درمیان شدید تصادم ہوا جس کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 14 سے 15 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 80 سے 88 افراد زخمی ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق امدادی کارکن اب بھی بوگیوں کے دھاتی ڈھانچے کو کاٹنے کے لیے مشینوں کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ پھنسے ہوئے مسافروں کو نکالا جا سکے۔
ریاست کی ریلوے آپریٹر کمپنی کے مطابق، ایک اسٹیشنری commuter ٹرین (جکارتہ سے سیکارانگ جانے والی) کو پیچھے سے ایک لانگ ڈسٹنس ٹرین (Argo Bromo Anggrek) نے ٹکر ماری۔ تصادم کی وجہ ایک ٹیکسی بتائی جا رہی ہے جو ریلوے کراسنگ پر رک گئی تھی، جس کی وجہ سے commuter ٹرین اچانک رک گئی اور پھر دوسری ٹرین نے اس کے پیچھے والی بوگی (خاص طور پر خواتین کے لیے مخصوص بوگی) کو شدید نقصان پہنچایا۔
ریسکیو آپریشنز جاری ہیں اور کچھ مسافر اب بھی ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ انڈونیشیا کے صدر پرابوو نے واقعے کی مکمل تحقیق کے احکامات دے دیے ہیں۔
یہ انڈونیشیا کے پرانے ریلوے نیٹ ورک میں ہونے والا تازہ ترین بڑا حادثہ ہے۔

