تہران — ایران میں حکام نے حکومت مخالف مظاہروں میں ملوث تین افراد کو پھانسی دے دی۔ ملزمان پر سیکورٹی اہلکار کے قتل سمیت متعدد پرتشدد کارروائیوں میں حصہ لینے کا الزام تھا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تینوں افراد کو سزائے موت ایران کی سپریم کورٹ سے توثیق کے بعد عمل میں لائی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی قانون کے مطابق اور عدالتی عمل مکمل ہونے کے بعد کی گئی۔
تاہم انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے ان سزاؤں کی شدید مذمت کی ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملزمان کو منصفانہ سماعت کا موقع نہیں دیا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران احتجاجی آوازوں کو دبانے کے لیے عدلیہ کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ ایران میں 2022 میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا تھا۔

