نیٹو کے ۳۶ ویں سربراہی اجلاس کے لیے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انقرہ آمد سے قبل اس ہوٹل کے سامنے واقع ایک عمارت پر فلسطینی پرچم آویزاں کر دیا گیا، جہاں ان کے قیام کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس علامتی اقدام نے اجلاس سے قبل سفارتی اور سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ عالمی میڈیا کی بھی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔
امریکی صدر کے متوقع قیام کے لیے مختص جے ڈبلیو میریٹ ہوٹل کے عین سامنے واقع ایک عمارت پر ایک بڑا فلسطینی پرچم آویزاں کر دیا گیا، جسے مبصرین فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کی ایک علامتی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ۷ اور ۸ جولائی کو ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں دنیا بھر کے لیڈر انقرہ پہنچ رہے ہیں۔
دوسری جانب ترک حکام نے سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے ہیں: ہوٹل کے اطراف پولیس کی بھاری نفری، داخلی و خارجی راستوں پر رکاوٹیں، گاڑیوں اور پیدل آنے والوں کی مکمل تلاشی، شناختی دستاویزات کی جانچ اور ایکس رے اسکینرز کا استعمال شامل ہے۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ پرچم کس نے آویزاں کیا، اور نہ ہی کسی گرفتاری کی اطلاع ہے۔ ترک حکومت نے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ منظر ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ کی جنگ عالمی سفارت کاری کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے، اور ترکی مسلسل فلسطینی مؤقف کی حمایت کرتا رہا ہے۔

