اسلام آباد (): پاکستان کی وزارت داخلہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یو اے ای نے پاکستانی شہریوں کے لیے عام ویزوں (visit/work) کا اجراء فوری طور پر روک دیا ہے۔ صرف ڈپلومیٹک اور بلیو (سرکاری) پاسپورٹ ہولڈرز کو ویزے جاری کیے جا رہے ہیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق یہ فیصلہ بدعنوانی، شناختی فراڈ، غیر قانونی قیام، اور بعض پاکستانی شہریوں کے مبینہ جرائم کے باوجود ہے۔ حکام نے کہا کہ بہت سے پاکستانی باشندے اوور اسٹے، شناختی فراڈ یا بینک فراڈ جیسے جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں، جس نے یو اے ای کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔
دوسری جانب، یو اے ای کی جانب سے باضابطہ طور پر مکمل پاسپورٹ پابندی نافذ نہیں کی گئی — البتہ تقریباً تمام عام ویزوں پر عمل دخل منجمد ہے، جس کی بنا پر پاکستانی شہریوں کے لیے یو اے ای جانا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔
یہ ویزہ معطلی ایسے وقت پر آئی ہے جب یو اے ای پاکستان کا بڑا تجارتی اور ترسیلات زر کا پارٹنر ہے، اور اس فیصلہ نے لاکھوں پاکستانی تارکینِ وطن اور مزدور طبقے کو شدید پریشانی میں ڈال دیا ہے۔
پاکستانی شہری جو ورکرز، طلبہ، یا سیاح کے طور پر یو اے ای جانا چاہتے ہیں — ان کی تمام منصوبہ بندیاں رک گئی ہیں۔
مزدور طبقہ اور بیرون ملک اجرت کمانے والے ملازمین کی بڑی تعداد متاثر ہو سکتی ہے، جس سے ترسیلات زر پر منفی اثرات متوقع ہیں۔
تجارتی اور سفری روابط میں انتہائی دشواری پیدا ہو سکتی ہے، خاص طور پر خاندانوں کی ملاپ، تجارت اور سرمایہ کاری پر اثرات مرتب ہوں گے۔

