بھارت نے انفراسٹرکچر اور دفاع کے لیے ریکارڈ بجٹ کا اعلان کر دیا

IMG 20260202 WA0415


بھارتی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے انفراسٹرکچر پر $133 بلین (تقریباً ₹12.2 لاکھ کروڑ) اور دفاع پر $85 بلین (تقریباً ₹7.85 لاکھ کروڑ) خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں انفراسٹرکچر پر تقریباً 9% اور دفاع پر 15% کا اضافہ ہے۔
فنانس منسٹر نرملا سیتھارامن نے پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریکارڈ رقم انفراسٹرکچر اور دفاع میں سرمایہ کاری کے لیے مختص کی گئی ہے تاکہ ملک کو "وکسٹ بھارت” (ترقی یافتہ بھارت) کے ہدف کی جانب لے جایا جا سکے.
انفراسٹرکچر (Capital Expenditure): ₹12.2 لاکھ کروڑ ($133 بلین) — یہ گزشتہ سال کے ₹11.1-11.2 لاکھ کروڑ سے تقریباً 9-11% زیادہ ہے۔ اس میں روڈز، ریلوے، پورٹس، ہائی سپیڈ ریل کوریڈورز، نیشنل واٹر ویز اور ٹائر-2/ٹائر-3 شہروں میں ترقی پر زور دیا گیا ہے۔
دفاع کا بجٹ: کل ₹7.85 لاکھ کروڑ — جو گزشتہ سال کے ₹6.81 لاکھ کروڑ سے 15% زیادہ ہے۔ اس میں سے کیپیٹل اخراجات (جدید سازی کے لیے) ₹2.19 لاکھ کروڑ ہیں جو تقریباً 22% کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ اس رقم سے نیکسٹ جنریشن فائٹر ایئرکرافٹ، ڈرونز، شپ/سب میرینز، جدید ہتھیار اور مقامی پیداوار (آتما نربھر بھارت) کو فروغ دیا جائے گا۔
یہ اضافہ مئی 2026 میں پاکستان کے ساتھ چار روزہ تنازع (آپریشن سندور) کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ڈرونز، میزائلز اور توپ خانے کا بھرپور استعمال دیکھا گیا تھا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ سرمایہ کاری ملک کی معاشی ترقی، سیکیورٹی اور خود انحصاری کو مضبوط کرے گی۔ بجٹ میں مینوفیکچرنگ، AI، سیمیکنڈکٹرز اور دیگر شعبوں میں بھی اضافی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹ