امریکہ ایران کشیدگی: پینٹاگون نے ٹرمپ کو فوجی آپشنز سے آگاہ کیا، خامنہ ای کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بھی زیر غور

IMG 20260223 WA0023


واشنگٹن — امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس اور سی این این کے مطابق پینٹاگون نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی آپشنز پر تفصیلی بریفنگ دی ہے جن میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای، ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای، نیوکلیئر تنصیبات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے منصوبے شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام کا ایک اہم اجلاس ہوا جس میں ایران کی صورتحال پر غور کیا گیا، جبکہ صدر ٹرمپ کو خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے جنیوا میں ایران سے بالواسطہ مذاکرات کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔ 
آپشنز کا دائرہ وسیع ہے — نیوکلیئر اور میزائل سائٹس پر محدود حملوں سے لے کر ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے اور حکومت گرانے تک کے منصوبے شامل ہیں۔ تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور وائٹ ہاؤس نے ان بریفنگز کو معمول کی اسٹریٹجک منصوبہ بندی قرار دیا ہے۔ 
ٹرمپ نے خود اعتراف کیا کہ وہ ایران پر محدود فوجی حملے پر "غور” کر رہے ہیں اور تہران کو خبردار کیا کہ ڈیل کے لیے "دس سے پندرہ دن” کا وقت باقی ہے۔ 
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے صاف کہا کہ "ایران کے نیوکلیئر پروگرام کا کوئی فوجی حل نہیں، واحد راستہ سفارت کاری ہے۔”

متعلقہ پوسٹ