پیرس،
فرانس نے امریکی سفیر چارلس کشنر کو فرانسیسی حکومت کے وزراء سے براہ راست ملاقات کا حق معطل کر دیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب کشنر نے وزارتِ خارجہ کی طلبی کو نظرانداز کیا — ایک ایسا قدم جسے فرانس نے سفارتی اصولوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئیل باروت نے کشنر کو طلب کیا تھا کیونکہ پیرس میں امریکی سفارتخانے نے امریکی محکمہ خارجہ کی اس پوسٹ کو ری شیئر کیا تھا جس میں لیون شہر میں دائیں بازو کے نوجوان کارکن کانٹاں دیرانک (23 سالہ) کی ہلاکت کو "پرتشدد بائیں بازو انتہاپسندی” کا نتیجہ قرار دیا گیا تھا۔ فرانسیسی حکومت نے اسے اپنے اندرونی سیاسی معاملات میں غیر ملکی مداخلت سمجھا۔
کشنر — جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے والد ہیں — نے خود حاضر ہونے کی بجائے اپنی ذاتی مصروفیات کا حوالہ دیتے ہوئے سفارتخانے کا ایک سینیئر اہلکار بھیج دیا۔ یہ دوسرا موقع تھا جب انہوں نے فرانسیسی وزارتِ خارجہ کی طلبی پر ذاتی طور پر حاضر ہونے سے گریز کیا۔
وزیر خارجہ باروت نے کہا: "ایک سفیر کے بنیادی فرائض سے اس ظاہری بے خبری کے پیشِ نظر” انہوں نے درخواست کی ہے کہ کشنر کو فرانسیسی حکومت کے اراکین سے براہ راست ملاقات کی اجازت نہ دی جائے۔ باروت نے مزید کہا کہ یہ پابندی فرانس میں کشنر کی سفارتی صلاحیت کو "یقیناً متاثر کرے گی”۔
تاہم منگل کو کشنر نے باروت کو فون کیا۔ دونوں اطراف نے اس گفتگو کو "کھلا اور دوستانہ” قرار دیا۔ کشنر نے فرانسیسی داخلی بحث میں مداخلت نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی اور دونوں آنے والے دنوں میں ملاقات پر متفق ہوئے۔
واضح رہے کہ کشنر اس سے قبل بھی اگست 2025 میں فرانسیسی صدر ماکروں کو ایک کھلا خط لکھ کر تنازعے کا باعث بن چکے ہیں، جس میں انہوں نے فرانس پر یہودی مخالف تشدد کے خلاف ناکافی اقدامات کا الزام لگایا تھا۔ اس وقت بھی صدر ماکروں نے اسے "ایک سفیر کے لیے ناقابلِ قبول بیان” قرار دیا تھا۔

