امریکا نے جنگ بندی کے لیے تجاویز پیش کیں، واشنگٹن پوسٹ
واشنگٹن/تہران (26 مارچ 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کو 4 سے 6 ہفتوں میں ختم کرنے کا واضح اشارہ دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ابتدائی طور پر اس آپریشن کے لیے یہی ٹائم لائن دی تھی اور اب بھی اسی پر قائم ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے جنگ کو جلد ختم کرنے کے لیے نئی حکمت عملی اپنائی ہے جس میں فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششیں بھی شامل ہیں۔ امریکی صدر نے ایران سے جنگ بندی کے لیے کئی تجاویز پیش کی ہیں، جن میں ایک 15 پوائنٹس امن پلان بھی شامل ہے۔ اس پلان میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرے، آبنائے ہرمز کھول دے، میزائل پروگرام کو محدود کرے اور علاقائی پراکسی گروپس کی حمایت چھوڑ دے۔
ٹرمپ نے حال ہی میں کہا کہ ایران ایک معاہدے کے لیے "بہت زیادہ بے تاب” ہے اور مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے ایران کو وارننگ دی ہے کہ اگر وہ "جلد سنجیدہ” نہ ہوا تو "بہت دیر ہو جائے گی”۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کارولین لیویت نے بھی تصدیق کی کہ آپریشن 4 سے 6 ہفتوں کے اندر مکمل ہو سکتا ہے اور امریکا اس ٹائم لائن سے آگے ہے۔
ایران نے اب تک اس پلان کو مسترد کر دیا ہے اور اپنے مطالبات پیش کیے ہیں۔ تاہم، پاکستان سمیت کچھ ممالک کے ذریعے بالواسطہ بات چیت جاری رکھی جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے پاور پلانٹس پر حملوں کی ڈیڈ لائن میں بھی توسیع دی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نئی حکمت عملی "طاقت کے ذریعے امن” (Peace through Strength) پر مبنی ہے، جس میں فوجی کارروائیوں کو جاری رکھتے ہوئے سفارتی راستہ بھی کھلا رکھا گیا ہے۔ جنگ کے چوتھے ہفتے میں داخل ہونے کے باوجود کچھ اہداف ابھی پورے نہیں ہوئے ہیں۔

