یورپی یونین: اسرائیل سے تعلقات معطل کرنے کی تجویز مسترد


غزہ بحران پر یورپی اتحاد میں گہری دراڑیں، رکن ممالک متحد موقف اپنانے میں ناکام
یورپی یونین کے رکن ممالک اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات معطل کرنے کی تجویز پر اتفاقِ رائے قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ غزہ اور مغربی کنارے میں جاری انسانی بحران کے باوجود یورپی بلاک کے اندر اس حساس مسئلے پر واضح تقسیم سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق کئی رکن ممالک نے اسرائیل کے خلاف سخت اقدامات کی حمایت کی، تاہم دیگر ممالک نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے سفارتی مذاکرات اور دباؤ کو ترجیح دی۔ یورپی یونین میں کسی بھی اہم خارجہ پالیسی فیصلے کے لیے تمام 27 رکن ممالک کا اتفاقِ رائے لازمی ہے، جو اس معاملے میں ممکن نہ ہوسکا۔
غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع پر یورپی ممالک کے درمیان ردِعمل ہمیشہ سے منقسم رہا ہے۔ اسپین، آئرلینڈ اور بیلجیم جیسے ممالک نے اسرائیل کے خلاف سخت موقف اپنایا ہے، جبکہ جرمنی، آسٹریا اور چیک ری پبلک روایتی طور پر اسرائیل کے قریبی حامی رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تقسیم یورپی یونین کی خارجہ پالیسی میں بنیادی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے، جہاں متفقہ فیصلہ سازی کا نظام بلاک کو بعض اوقات عالمی بحرانوں پر مؤثر اور بروقت ردِعمل دینے سے روک دیتا ہے۔

متعلقہ پوسٹ