/واشنگٹن —
ایران اور امریکا کے درمیان جاری جوہری مذاکرات ایک اہم موڑ پر آ گئے ہیں۔ ایران نے ثالث ممالک کو آگاہ کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے پیش کردہ نظر ثانی شدہ تجاویز پر سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے مشاورت کے لیے چند دن کا وقت درکار ہے۔
ایک معروف امریکی اخبار نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی حکام نے ثالثوں کے ذریعے یہ پیغام واشنگٹن تک پہنچایا ہے۔ ذرائع کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ حتمی فیصلہ سپریم لیڈر کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں۔
مذاکرات میں عُمان سمیت دیگر خلیجی ممالک ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا یہ سلسلہ کئی ہفتوں سے جاری ہے جس کا مرکزی موضوع ایران کا جوہری پروگرام اور اس پر عائد بین الاقوامی اقتصادی پابندیاں ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ قدم مذاکرات میں سنجیدگی کی علامت ہو سکتا ہے، تاہم حتمی نتیجے کے لیے ابھی انتظار کرنا ہوگا۔ دونوں فریقین پر بین الاقوامی برادری کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔

