تہران — ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں سے سیکورٹی اور دیگر سروسز کی فراہمی کے عوض باقاعدہ فیس وصول کرنے کو قانونی شکل دینے کے لیے ایک اہم بل تیار کرلیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے ذرائع کے مطابق یہ بل آبنائے ہرمز میں بحری نگرانی، حفاظتی خدمات اور رہنمائی کی سہولیات فراہم کرنے کے بدلے گزرنے والے جہازوں سے ٹول ٹیکس وصول کرنے کا قانونی اختیار ایرانی حکام کو دے گا۔ بل کی منظوری کے بعد یہ طریقہ کار باقاعدہ نافذالعمل ہوجائے گا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے روزانہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل گزرتی ہے۔ خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور عراق کی تیل برآمدات کا بڑا حصہ اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ قانون نافذ ہوا تو عالمی تیل منڈیوں پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ خدشہ ہے کہ ٹول ٹیکس کا بوجھ بالآخر تیل کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں عام صارفین پر منتقل ہوگا۔
امریکہ، یورپی یونین اور خلیجی ممالک نے ایران کے اس اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے ماہرین کے مطابق اقوام متحدہ کے سمندری قانون یعنی UNCLOS کے تحت بین الاقوامی آبی گزرگاہوں سے بے روک ٹوک گزرنا تمام ممالک کا بنیادی حق ہے، اس لیے ایران کا یہ اقدام عالمی قانون سے متصادم ہوسکتا ہے۔

