امریکہ کی آئی سی سی کے خلاف مہم نیتن یاہو کو بچانے کیلئے ہے: ٹرمپ

Untitled yahu d


امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کی آئی سی سی کے خلاف مہم نیتن یاہو کو بچانے کیلئے ہے، جبکہ مارکو روبیو نے دلیل دی کہ یہ کوشش امریکی اہلکاروں کو مستقبل میں آئی سی سی کے ممکنہ مقدمات سے بچانے کے لیے بھی ہے۔
امریکی صدر نے اصرار کیا کہ وہ خود عدالت کی تحقیقات کا مرکز نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ ٹرمپ نے یہ تبصرہ ۳۱؍ جولائی کو کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ اجلاس کے دوران کیا، جب سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے وزراء کو ہیگ میں قائم اس عدالت کو چھوڑنے کے لیے رکن ممالک کو راضی کرنے کی کوششوں کے بارے میں معلومات دی۔
بعد ازاں مارکو روبیو نے اعلان کیا کہ پانچ ممالک نے اس ماہ کے اوائل میں امریکہ کی زیرقیادت مہم کے بعد آئی سی سی سے علیحدگی کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ انتظامیہ کے اقدامات کا مقصد ذاتی طور پر ان کی حفاظت کرنا ہے۔ ٹرمپ نے کہا، ’’کوئی خبر نہیں ہے کہ وہ میرے پیچھے ہیں۔ یہ ہو سکتا ہے، لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے… وہ (روبیو) میرا دفاع کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ وہ بی بی (نیتن یاہو) اور دیگر لوگوں کا دفاع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
روبیو کے مطابق، آئی سی سی مہم صرف اسرائیلی وزیراعظم کے بارے میں نہیں ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ امریکی فوجی اہلکار بھی مستقبل میں آئی سی سی میں استغاثہ کا سامنا کر سکتے ہیں، فوجی کارروائیوں میں شرکت کے برسوں بعد، جس سے عدالت کے خلاف انتظامیہ کی مخالفت ایک وسیع تر قومی سلامتی کا مسئلہ بن جاتی ہے۔
واضح رہے کہ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی)، جو ۲۰۰۲ء میں قائم ہوئی اور ہیگ میں واقع ہے، نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کی تحقیقات کرتی ہے۔ اگرچہ امریکہ آئی سی سی کا رکن نہیں ہے، تاہم اگر مبینہ جرائم کسی رکن ریاست کی سرزمین پر کیے گئے ہوں تو عدالت غیر رکن ریاستوں کے شہریوں پر بھی مقدمہ چلا سکتی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے عدالت کے خلاف اپنی تنقید میں تیزی سے اضافہ کیا ہے، خاص طور پر غزہ تنازع کے دوران مبینہ جنگی جرائم کے سلسلے میں نیتن یاہو کے گرفتاری وارنٹ جاری کیے جانے کے بعد۔ اسی حکمت عملی کے تحت امریکی انتظامیہ رکن ممالک کو آئی سی سی سے دستبرداری پر آمادہ کرنے کے ساتھ عدالتی عہدیداروں پر سفری اور مالی پابندیاں بھی عائد کر رہی ہے، تاہم ان اقدامات کو آئی سی سی ججوں اور امریکی وکالت گروپوں کی جانب سے قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔

متعلقہ پوسٹ