’’ہم ہتھیار کسی کے سپرد نہیں کریں گے، انہیں محفوظ رکھیں گے‘‘

hamas 0208 d


فلسطینی تنظیم حماس نے واضح کیا ہے کہ غزہ امن معاہدے کی تمام شقیں ایک دوسرے سے مشروط ہیں اور یہ ایک مکمل پیکیج ہے۔ حماس کے مطابق یہ کہنا غلط ہے کہ وہ اپنے ہتھیار کسی کے سپرد کرنے جا رہی ہے — ہتھیار محفوظ رکھے جائیں گے، اور اگر اسرائیل معاہدے کی پاسداری کرے تو حماس بھی ان کا استعمال نہیں کرے گی۔
ایک روز قبل یہ خبر آئی تھی کہ حماس نے صدر ٹرمپ کی تجویز کردہ پیس کونسل کے ذریعے پیش کئے گئے معاہدے کی مزید دو شرائط، بشمول غیر مسلح ہو جانے کی شرط، تسلیم کر لی ہیں — جسے امریکہ اپنی کامیابی قرار دے رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں کابینی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ کسی کو یقین نہیں تھا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کا معاہدہ ممکن ہوسکے گا، اور یہ پیش رفت ایران پر پڑنے والے دباؤ کا نتیجہ ہے۔ تاہم ٹرمپ کا یہ بیان ادھورا ہے کیونکہ معاہدے میں غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلاء بھی شامل ہے، جو کہ اصل شرط ہے جس کے پورا ہونے پر ہی حماس اپنے ہتھیار استعمال نہ کرنے کا وعدہ نبھائے گی۔
غازی حماد کی وضاحت: حماس رہنما ڈاکٹر غازی حماد نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ معاہدے کے کسی ایک حصے پر باقی سے الگ ہو کر عمل نہیں ہو سکتا۔ حماس کا عمل درآمد مکمل طور پر اس بات پر منحصر ہوگا کہ اسرائیل اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے، کیونکہ اسرائیل کا معاہدوں کی خلاف ورزی کا طویل ریکارڈ ہے۔ حماد کے مطابق حماس نے ثالثوں اور فلسطینی گروپوں سے طویل مشاورت کے بعد، غزہ کی سنگین انسانی و سیکورٹی صورتحال کے پیشِ نظر، اس معاہدے پر رضامندی دی ہے — اگرچہ حماس اس سے مطمئن نہیں۔ ان کے بقول: ”اگر اسرائیل شقوں پر عمل نہیں کرے گا تو ہم بھی پابند نہیں رہیں گے، اسی لئے اسلحہ کسی کے حوالے نہیں کیا جائے گا بلکہ محفوظ رکھا جائے گا۔“
امریکہ اور اسرائیل کے متضاد بیانات: امریکہ نے وعدہ کیا ہے کہ اسرائیل اپنی فوجیں غزہ سے ہٹا لے گا، لیکن اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے معاہدے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ 7؍ اکتوبر کے بعد حماس کا ہر رکن جائز نشانہ ہے، اور غزہ میں ٹارگٹیڈ کلنگ جاری رہنی چاہیے۔ دوسری جانب امریکہ نے، حماس وفد کی موجودگی میں ایک ثالث سے ٹیلی فونک گفتگو میں، باہمی عمل درآمد کی ضمانت دی ہے اور کہا کہ نیتن یاہو کو معاہدے میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق واشنگٹن نے اسرائیل کو فوجی انخلاء سمیت تمام طے شدہ ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند بنانے کا یقین دلایا ہے۔

متعلقہ پوسٹ