یورپی یونین نے معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد کو ایک بڑا چیلنج قرار دے دیا، جبکہ سعودی عرب نے معاہدے کے لیے صدر ٹرمپ کی کاوشوں کو سراہا اور پاکستان نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس کے اسلحہ سے دستبرداری کا منصوبہ اگر مکمل طور پر نافذ کیا جائے تو یہ امن کے حصول کی طرف ایک تعمیری قدم ثابت ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ معاہدے کی کامیابی کے لیے تمام فریقوں کی کامل پابندی ضروری ہے۔
کالاس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا، جو امریکہ کی ثالثی اور مصر، قطر، ترکیہ اور بین الاقوامی مندوب نیکولے ملادینوف کے تعاون سے طے پایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس کی جانب سے معاہدے کی شقوں کی پابندی کی توثیق کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا، اور بالآخر اسرائیل کو غزہ کی پٹی سے نکلنا ہوگا۔
انہوں نے اعادہ کیا کہ یورپی یونین اگلے مراحل کی حمایت کے لیے تیار ہے، جن میں غزہ کے انتظام کے لیے قومی کمیٹی کا قیام اور بین الاقوامی استحکام فورس کا داخلہ شامل ہے۔ کالاس نے نشاندہی کی کہ زمین پر موجود یورپی یونین کے دو مشنز فلسطینی ریاست کی تعمیر کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب نے ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کے تاریخی معاہدے کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت اور اس معاملے میں ان کی گہری کمٹمنٹ قابل ستائش ہے، جو اس اہم سنگ میل کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی رہی۔
سعودی عرب نے معاہدے کے مکمل اور جامع نفاذ کے لیے اپنی مکمل تائید کا اظہار کیا اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کی اہمیت پر زور دیا، ساتھ ہی بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی کا مطالبہ بھی دہرایا۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق پائیدار امن کا قیام صرف ایک جامع سیاسی تصفیے کی صورت ہی ممکن ہو سکتا ہے، جو اس تصادم کو حتمی طور پر ختم کر سکے۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی غزہ امن منصوبے کے تحت حماس کے غیر مسلح ہونے کی جانب پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ اقدام ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امید رکھتا ہے کہ غزہ امن منصوبے کے تحت کیے گئے تمام وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ’ٹھوس اقدامات‘ کیے جائیں گے۔

