امریکہ: ٹرمپ کی تصویر والے سکے کی چو طرفہ مذمت، سوشل میڈیا پر ٹرول، اسے ”آزادی کی موت” قرار دیا گیا

Inquilab 20260904 204925 0000 d


امریکی مِنٹ (ٹکسال) نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تصویر والے ایک ڈالر کے ”سونے” کے سکوں کی فروخت شروع کر دی ہے۔ اس طرح ٹرمپ امریکی کرنسی پر نمودار ہونے والے دوسرے برسرِ اقتدار صدر بن گئے ہیں۔ ملک کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر تیار کئے گئے اس سکے پر ٹرمپ کے چہرے کے اوپر لفظ ”LIBERTY” (آزادی) لکھا ہے جس کے ساتھ ایک ڈیش کے ذریعے جڑے سال 1776ء اور 2026ء درج ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ آزادی کی پیدائش اور موت کی تاریخوں کی طرح دکھائی دیتی ہے۔
اقتصادیات کی معروف مصنفہ کیتھرین رمپیل نے اس ڈیزائن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ ”آزادی کی تاریخِ پیدائش 1776ء اور اس کی تاریخِ وفات 2026ء ظاہر کرتا ہے۔” محکمہ خزانہ ان سکوں کو ان کی اصل قیمت سے کہیں زیادہ پر فروخت کر رہا ہے، جن کے رولز اور تھوک تھیلوں کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کیا گیا ہے۔
سکے کو قانونی مخالفت کا سامنا
ڈیموکریٹک قانون سازوں اور کرنسی ڈیزائن کا جائزہ لینے والی ایک دو طرفہ کمیٹی نے اس سکے کی پہلی تجویز پر ہی اعتراض کیا تھا، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ کسی برسرِ اقتدار صدر کو سکے پر پیش کرنا جمہوری اصولوں کے ساتھ ساتھ اس وفاقی قانون کی بھی خلاف ورزی ہو سکتی ہے جس کے تحت سکوں پر تصاویر کو صرف متوفی افراد تک محدود کیا گیا ہے۔
منٹ کے حکام کا مؤقف ہے کہ یہ ڈیزائن 2020ء کے اس قانون کے تحت تیار کیا گیا ہے جو سالگرہ کی تھیم والے ایک ڈالر کے سکوں کی اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے دستخط کردہ 2021ء کے ایک ایکٹ کی طرف اشارہ کیا جو صرف سکے کی پشت پر زندہ شخصیات کو دکھانے سے روکتا ہے، ساتھ ہی 1926ء میں سکے پر کیلوِن کولج کے نمودار ہونے کی نظیر بھی پیش کی۔ ڈیموکریٹس نے ٹرمپ کو سکے پر آنے سے واضح طور پر روکنے کے لیے قانون سازی متعارف کرائی، جسے سینیٹر جیف مرکلی نے آمرانہ اطوار سے تشبیہ دی۔
تازہ سکہ، ایک وسیع تر سلسلے کا حصہ
یہ سکہ ٹرمپ کی جانب سے وفاقی اداروں پر اپنا نام اور تصویر چسپاں کرنے کے ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہے، جس میں سرکاری عمارتوں پر بینرز، نئے ڈیزائن کردہ ”پیٹریاٹ پاسپورٹ”، TrumpRx اور ٹرمپ گولڈ کارڈ جیسی ٹرمپ کے برانڈ والی پالیسیاں، اور ٹرمپ کلاس کے جنگی جہازوں سمیت فوجی منصوبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں کینیڈی سینٹر کا نام تبدیل کرنے، وائٹ ہاؤس کے احاطے کی ازسرِ نو تزئین اور نئے بال روم کمپلیکس کے لیے ایسٹ ونگ کو مسمار کرنے کے معاملے پر بھی مسلسل قانونی جنگوں کا سامنا ہے۔

متعلقہ پوسٹ