وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ہفتے کو لاہور میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ ان کے صوبے کو دہشت گردی کا خطرہ ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں ہمسایہ صوبوں سے زیادہ ہے۔
پاکستان کے دو صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کئی سالوں سے عسکریت پسندی کا شکار ہیں اور دونوں صوبوں میں حالیہ مہینوں میں دہشت گردی کے واقعات بڑھے ہیں۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس حب کی ای-لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب ایک محفوظ صوبہ ہے، تاہم صوبے کے تمام بین الصوبائی سرحدی علاقوں سے دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے حکومت نے سکیورٹی کے نظام کو جدید بنانے اور چیک پوسٹوں کو مضبوط کرنے پر اربوں روپے خرچ کیے ہیں۔
مریم نواز کے مطابق جب انہوں نے وزارت اعلیٰ سنبھالی تو سرحدی علاقوں کی بعض چیک پوسٹوں پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں کے پاس دہشت گردوں کے مقابلے میں جدید ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی۔
’دہشت گردوں کے پاس نائٹ ویژن کیمرے اور حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے جدید سہولیات موجود تھیں، تاہم اب پنجاب کے سکیورٹی نظام میں بھی جدید ٹیکنالوجی شامل کردی گئی ہے۔‘
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ چیک پوسٹوں کو بلٹ پروف بنایا گیا ہے جبکہ وہاں تھرمل کیمرے اور ڈرونز بھی فراہم کیے گئے ہیں۔
’ان اقدامات کا مقصد سکیورٹی اہلکاروں کو دہشت گردوں کے حملوں سے محفوظ رکھنا اور جانی نقصان کم سے کم کرنا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ماضی میں چیک پوسٹوں پر دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں کبھی پانچ اور کبھی 10 اہلکار جان سے جاتے تھے، تاہم جدید ٹیکنالوجی اور حفاظتی انتظامات کے باعث اب جانی نقصان میں نمایاں کمی آئی ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ تقریباً دو سے ڈھائی سال قبل بعض چیک پوسٹیں ایسی تھیں جہاں سکیورٹی اہلکار مٹی کی دیواروں یا چند بوریوں کے پیچھے تعینات ہوتے تھے، لیکن اب وہاں بلند حفاظتی دیواریں، محفوظ کمرے اور دیگر حفاظتی انتظامات موجود ہیں جہاں حملے کی صورت میں اہلکار پناہ لے سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کچے کے علاقے میں جرائم اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو ریاست کی بڑی کامیابی قرار دیا۔
’ماضی میں یہ علاقہ جرائم کا مرکز بنا ہوا تھا جہاں لوگوں کو ہنی ٹریپ کے ذریعے اغوا کرکے تاوان طلب کیا جاتا تھا۔
’تاہم فوج کی معاونت اور پنجاب و سندھ حکومتوں کے مشترکہ اقدامات سے صورتحال میں بہتری آئی ہے۔‘
مریم نواز نے کہا کہ جہاں ریاست کی عمل داری کو چیلنج کیا جائے یا ریاستی اختیار کمزور ہو وہاں مسائل پیدا ہوتے ہیں، اسی لیے حکومت کی کوشش ہے کہ ریاستی رٹ کو مضبوط کیا جائے۔
مارچ 2010 میں پنجاب کے اُس وقت کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے عوامی طور پر پاکستانی طالبان سے کہا تھا کہ وہ پنجاب کو حملوں سے ’بخش دیں۔‘ انہیں اس بیان پر بعد ازاں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) نے جولائی کی اپنی ماہانہ رپورٹ میں بتایا تھا کہ اس ماہ میں کم از کم 112 سکیورٹی اہلکار جان سے گئے جبکہ مختلف کارروائیوں میں 401 عسکریت پسند مارے گئے۔
رپورٹ کے مطابق سکیورٹی کی صورت حال بلوچستان میں سب سے زیادہ خراب رہی، جہاں مجموعی اموات کی تعداد 241 فیصد اضافے کے ساتھ جون کی 109 سے بڑھ کر جولائی میں 372 ہو گئی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بلوچستان میں سکیورٹی اہلکاروں کی اموات جون میں چھ سے بڑھ کر جولائی میں 62 ہو گئیں، جو 933 فیصد اضافہ ہے۔
اسی طرح صوبے میں عسکریت پسندوں کی اموات 75 سے بڑھ کر 238 ہو گئیں۔
رپورٹ کے مطابق ضم شدہ اضلاع کو چھوڑ کر خیبر پختونخوا کے باقی اضلاع میں جولائی کے دوران 154 اموات ہوئیں جبکہ جون میں یہ تعداد 75 تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع، جو ماضی میں فاٹا کے نام سے جانے جاتے تھے، میں مجموعی اموات میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔
خطے میں جولائی کے دوران 79 افراد مارے گئے، جون میں یہ تعداد 85 تھی۔
سندھ میں جولائی کے دوران دو حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں سکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار مارا گیا۔ صوبے میں جون کے دوران 12 اموات ہوئی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب، اسلام آباد، کشمیر اور گلگت بلتستان میں جولائی کے دوران دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

