واشنگٹن — امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خلیج میکسیکو اور جھیل اونٹاریو کے نام تبدیل کرنے کے بعد بحرِ اوقیانوس یا بحرالکاہل میں سے کسی ایک کا نام ’’ٹرمپ اوشین‘‘ یا ’’امریکاز اوشین‘‘ رکھنے کی تجویز پیش کی ہے۔
ٹینیسی کے شہر کلارکس وِل میں انتخابی ریلی کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے پاس اب ایک خلیج اور ایک خوبصورت جھیل ہے، اس لیے اب ایک سمندر کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحرِ اوقیانوس یا بحرالکاہل، یا پھر دونوں کا نام تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ عہدے سے سبکدوش ہونے سے قبل ان کے خیال میں امریکہ کے پاس ایک سمندر بھی ہونا چاہیے اور ایک عظیم دریا کی بھی ضرورت ہے۔
گزشتہ سال وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد ٹرمپ نے انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت خلیج میکسیکو کا نام ’’خلیج امریکہ‘‘ رکھا گیا۔ میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے شمالی امریکی براعظم کا نام ’’امریکہ میکسیکانا‘‘ رکھنے کی طنزیہ تجویز دی تھی۔
اگست میں کنیڈا کے ساتھ تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے دوران ٹرمپ نے جھیل اونٹاریو کا نام ’’لیک امریکہ‘‘ رکھنے کی بات کہی تھی۔ اب گوگل میپس پر صارف کے مقام کے لحاظ سے جھیل کا نام ’’جھیل اونٹاریو‘‘ یا ’’جھیل امریکہ‘‘ ظاہر ہوتا ہے، جبکہ امریکہ اور کنیڈا سے باہر دونوں نام بیک وقت دکھائے جاتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ جھیل کا نام تبدیل کرنے کا خیال ان کے ذہن میں کافی عرصے سے تھا اور خلیج میکسیکو کی طرح اسے بھی نئے نام سے پکارا جاتا ہے۔

