گل پلازہ میں آگ شارٹ سرکٹ سے نہیں، ماچس یا لائٹر سے لگی – ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ

IMG 20260122 WA2095


کراچی (نمائندہ خصوصی) – گل پلازہ میں لگنے والی تباہ کن آگ کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار ہوگئی ہے جس میں انکشاف ہوا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کی بجائے ممکنہ طور پر ماچس یا لائٹر سے لگی۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات کی روشنی میں تیار کی گئی رپورٹ کے مطابق آگ مصنوعی پھولوں کی دکان سے شروع ہوئی جہاں بچے کھیل رہے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد کے مطابق بچے دکان میں ماچس یا لائٹر سے کھیل رہے تھے جس سے آگ لگ گئی۔
آگ ابتدائی طور پر دکان میں موجود سامان کو اپنی لپیٹ میں لے گئی اور پھر بجلی کی تاروں کے ذریعے تیزی سے پوری عمارت میں پھیل گئی۔ تحقیقاتی حکام نے واضح کیا کہ آگ شارٹ سرکٹ کے باعث نہیں لگی جیسا کہ ابتدائی طور پر خیال کیا جارہا تھا۔
آگ لگتے ہی عمارت میں موجود افراد خارجی راستوں کی طرف بھاگے لیکن عمارت کے دروازے بند ہونے کی وجہ سے شدید بھگدڑ مچ گئی۔ عمارت کی چھت کے راستے پر بھی گرل لگی ہوئی تھی جس نے لوگوں کی جان بچانے کے راستے مسدود کردیے۔ حادثے کے وقت عمارت میں زیادہ تر دکانیں کھلی ہوئی تھیں۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق آگ لگنے سے عمارت میں موجود سی سی ٹی وی سسٹم مکمل طور پر متاثر ہوگیا ہے جس سے تحقیقات میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ابتدائی رپورٹ عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ مزید تحقیقات جاری ہیں اور حتمی رپورٹ جلد جاری کی جائے گی۔

متعلقہ پوسٹ