واشنگٹن / بیجنگ / برسلز — 16 مارچ 2026
ایران جنگ کے تیسرے ہفتے میں داخل ہوتے ہی آبنائے ہرمز کا بحران ایک نئی سفارتی کشمکش کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ خام تیل کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل کی سطح کو چھوتے ہوئے، صدر ٹرمپ نے نیٹو، چین اور دیگر اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس اہم آبی گزرگاہ کو محفوظ بنانے میں امریکا کا ساتھ دیں، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی گزرتی ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر ممالک آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے جنگی بحری جہاز روانہ کریں، کیونکہ یہ تجارتی راستہ ان کے لیے امریکا سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بیجنگ کا موقف دہراتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کی جائیں اور کشیدگی میں کوئی اضافہ نہ کیا جائے۔ چین نے براہِ راست امریکی درخواست کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف آبنائے کو کھلا رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
یورپ کا صاف انکار:
برطانوی وزیرِاعظم کیر اسٹارمر نے ٹرمپ کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ نیٹو مشن نہیں ہوگا اور برطانیہ اس وسیع تر جنگ میں کھنچنے سے گریز کرے گا۔ جرمن حکومت کے ترجمان نے بھی واضح کر دیا کہ یہ جنگ نیٹو سے کوئی تعلق نہیں رکھتی، جبکہ جرمن وزیرِ خارجہ نے برسلز پہنچتے ہی کہا کہ وہ آبنائے ہرمز میں نیٹو ممالک کے کردار کی کوئی گنجائش نہیں دیکھتے۔
آبنائے ہرمز کی ایران کی جانب سے جزوی بندش کے باعث روزانہ ڈیڑھ کروڑ بیرل خام تیل اور 50 لاکھ بیرل تیل مصنوعات عالمی منڈی سے غائب ہیں، جس کی وجہ سے تیل کی قیمتیں 2022 کے بعد سب سے بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
ٹرمپ نے فنانشل ٹائمز کو انٹرویو میں دھمکی دی کہ اگر اتحادی ممالک نے تعاون نہ کیا تو یہ نیٹو کے مستقبل کے لیے "انتہائی خطرناک” ہوگا۔ انہوں نے کہا: "ہم یاد رکھیں گے۔”

