لندن/دبئی: ایک برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی فراہم کی ہے، جس میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں سے بچاؤ کے لیے دو اہم نظام شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو ‘اسپیکٹرو’ نامی جدید سرویلنس سسٹم فراہم کیا ہے جو تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے سے آنے والے ڈرونز، بالخصوص ایرانی شاہد ڈرونز، کی بروقت نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس کے علاوہ اسرائیل نے اپنے مشہور ‘آئرن بیم’ لیزر دفاعی نظام کا ایک ورژن بھی امارات کو فراہم کیا ہے۔ یہ نظام قلیل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹس اور ڈرونز کو لیزر شعاعوں کے ذریعے تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے یہی نظام رواں سال کے اوائل میں لبنان سے حزب اللہ کے راکٹ اور ڈرون حملوں کے خلاف کامیابی سے استعمال کیا تھا۔
یہ انکشاف اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ابراہیم معاہدے کے بعد اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون خاموشی سے مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے، اور ایران کا بڑھتا ہوا خطرہ اس شراکت داری کو تیز کر رہا ہے۔
اس حوالے سے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

