امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ لوگوں کو مارنا نہیں چاہتے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ’’ہم ایرانیوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور دیکھیں گے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑے حملے کی تیاری کر چکا تھا مگر ایران نے خود مذاکرات کی درخواست کی، جسے تہران نے مسترد کر دیا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تصدیق کی کہ ایران سے متعلق پالیسی پر ٹرمپ سے ان کا کوئی اختلاف نہیں۔ ان کے بقول امریکہ کا موقف مزید مضبوط ہو چکا ہے اور تہران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ وینس نے کہا کہ ایرانی حکومت کے اندر دو دھڑے ہیں — ایک جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے جبکہ دوسرا اسے ختم کرانے کی کوشش میں ہے، اور مذاکرات میں مزید وقت لگے گا۔
ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ امریکہ نے ثالثوں کے ذریعے ایران کو پیغام بھیجا ہے جس میں گزشتہ جون میں اسلام آباد میں طے پانے والی سمجھوتے کی یادداشت کی مکمل پاسداری پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال کوئی باقاعدہ مذاکرات نہیں ہو رہے اور ایران نے ایٹمی پروگرام سے متعلق دوسرے مرحلے کی بات چیت کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
دریں اثنا ایران نے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کی گزرگاہوں پر بات چیت میں ’’بڑی پیش رفت‘‘ کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت نقل و حرکت ایرانی پانیوں سے گزرے گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ اس ہفتے معاہدے کا اعلان متوقع ہے جس سے یہ اہم آبی گزرگاہ دوبارہ کھل سکتی ہے۔

