البانیہ نے امریکی ریپر کنیے ویسٹ کی میزبانی کے فیصلے پر اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے، حالانکہ متعدد یورپی ممالک نے انہیں اپنی سرزمین پر پرفارم کرنے سے روک دیا ہے۔ وزیراعظم ایڈی راما نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کنسرٹ پر تقریباً 4؍ ملین یورو لاگت آئے گی، تاہم اس سے سیاحت، ہاسپٹیلیٹی اور متعلقہ شعبوں کے ذریعے ملک کو 100؍ ملین یورو تک آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔
یہ فیصلہ اس لیے متنازع ہے کیونکہ کنیے ویسٹ ماضی میں یہود مخالف بیانات اور دیگر متنازع تبصروں کی وجہ سے زیرِ بحث رہے ہیں، جس کی وجہ سے کئی یورپی ممالک نے انہیں پرفارمنس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ ایسا لگتا ہے کہ راما حکومت کا خیال ہے کہ اس کنسرٹ سے ہونے والا معاشی فائدہ ساکھ کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان سے کہیں زیادہ ہے، اور وہ اسے البانیہ کو سیاحتی اور تفریحی مقام کے طور پر اجاگر کرنے کے موقع کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

