اسلام آباد — وفاقی آئینی عدالت نے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی ان دفعات کو بحال کردیا جنہیں لاہور ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں حکومت کو شہریوں کے پاسپورٹ غیر فعال کرنے اور ان کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا اختیار دوبارہ حاصل ہو گیا ہے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حکومتی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا اور اپیل کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔
عدالتی فیصلے کے بعد حکومت ایک بار پھر کسی بھی شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال سکتی ہے اور پاسپورٹ کو بلاک یا غیر فعال کرنے کا انتظامی اختیار بھی استعمال کر سکتی ہے۔
یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے ان دفعات کو شہری آزادیوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا تھا، تاہم وفاقی حکومت نے اس فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ مقدمے کی اگلی سماعت میں فریقین کے جوابات کے بعد حتمی فیصلہ متوقع ہے۔
شہری حقوق کے حلقوں نے اس پیشرفت پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس اختیار کے استعمال کے لیے واضح قانونی ضوابط مرتب کیے جائیں تاکہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو سکے۔

