وزارت خزانہ کے تخمینے دھرے رہ گئے — مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر

IMG 20260501 WA2659


اسلام آباد: وفاقی ادارہ شماریات کی تازہ رپورٹ نے وزارت خزانہ کے اندازوں کو غلط ثابت کر دیا ہے، کیونکہ ملک میں مہنگائی کی شرح سرکاری تخمینوں سے بھی تجاوز کرتے ہوئے 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچی ہے۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیاد پر ٹرانسپورٹ کرائوں میں 30 فیصد تک کا ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس نے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ ٹرانسپورٹ لاگت میں اس غیر معمولی اضافے کے اثرات دیگر اشیاء اور خدمات کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ وزارت خزانہ کے تخمینوں اور زمینی حقائق کے درمیان یہ واضح فرق حکومتی منصوبہ بندی اور معاشی پالیسی سازی پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ مہنگائی کی یہ لہر ایسے وقت میں آئی ہے جب عوام پہلے سے ہی بجلی، گیس اور خوراک کی بڑھتی قیمتوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
حزب اختلاف نے ان اعداد و شمار کو حکومت کی معاشی ناکامی کا ثبوت قرار دیتے ہوئے فوری ریلیف اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ حکومتی حلقوں کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ پوسٹ