ہارورڈ یونیورسٹی کی گریجویشن تقریب کا آغاز سورۃ العلق کی تلاوت سے، ویڈیو عالمی سطح پر وائرل

alala 0206 d 1


کیمبرج، میساچوسٹس: دنیا کی معروف تعلیمی درسگاہ Harvard University کی سالانہ بیکلاوریٹ (Baccalaureate) تقریب میں ایک مسلمان طالبہ کی جانب سے قرآن کریم کی تلاوت نے عالمی توجہ حاصل کر لی۔ 26 مئی کو منعقد ہونے والی تقریب میں طالبہ Suhaila Mukhtar نے سورۃ العلق کی ابتدائی آیات کی تلاوت کی، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کے تاریخی ٹرسنٹینری تھیٹر میں منعقد ہونے والی یہ تقریب گریجویشن ہفتے کی ایک اہم اور دیرینہ روایت سمجھی جاتی ہے، جس میں مختلف مذاہب اور ثقافتی روایات کی نمائندگی کی جاتی ہے۔ تقریب کے دوران قرآن کریم سمیت مختلف مذاہب کے مقدس متون اور دعائیں پیش کی گئیں تاکہ بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی احترام کے پیغام کو فروغ دیا جا سکے۔
سہیلہ مختار نے عربی زبان میں سورۃ العلق کی پہلی آیات کی تلاوت کی، جبکہ ان کا انگریزی ترجمہ ایک دوسری طالبہ نے حاضرین کے سامنے پڑھ کر سنایا۔ سورۃ العلق کی پہلی وحی کا آغاز لفظ "اقرأ” (پڑھو) سے ہوتا ہے، جو علم، تعلیم اور تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
مبصرین کے مطابق ایک عالمی شہرت یافتہ تعلیمی ادارے کی گریجویشن تقریب میں ان آیات کی تلاوت نہایت بامعنی اور موزوں تھی، کیونکہ یہ تعلیم اور علم کے حصول کے بنیادی اسلامی تصور کی عکاسی کرتی ہیں۔
اس سال تقریب عیدالاضحی 1447 ہجری کے ایام کے دوران منعقد ہوئی، جس کے باعث مسلم طلبہ اور شرکاء کے لیے اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ تقریب میں عیسائیت، یہودیت، ہندو مت، بدھ مت اور دیگر مذہبی روایات کے نمائندہ اقتباسات بھی پیش کیے گئے۔
ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے اسے مذہبی تنوع، بین المذاہب احترام اور علمی ماحول میں اسلامی تعلیمات کی مثبت نمائندگی کی ایک خوبصورت مثال قرار دیا۔ متعدد مسلم صارفین نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ دنیا کی ممتاز ترین جامعات میں سے ایک میں قرآن کریم کی تلاوت کو باقاعدہ تقریب کا حصہ بنایا گیا۔
ہارورڈ یونیورسٹی کی بیکلاوریٹ تقریب کئی دہائیوں پر محیط روایت ہے، جس کا مقصد طلبہ کو عملی زندگی میں قدم رکھنے سے قبل مختلف مذہبی اور اخلاقی روایات سے روشناس کرانا اور انسانیت، علم اور خدمت کے مشترکہ اصولوں کو اجاگر کرنا ہے۔

متعلقہ پوسٹ