کم ٹیکس، پرتعیش طرزِ زندگی اور کاروباری مواقع نے دنیا بھر کے دولتمندوں کو دبئی کی طرف کھینچ لیا
دبئی ایک بار پھر عالمی دولت کے مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق دبئی میں مقیم امیر ترین غیر ملکیوں میں بھارتی، پاکستانی اور سعودی شہری سب سے آگے ہیں، جو اس شہر کو ایشیائی اور خلیجی دولتمندوں کی پسندیدہ منزل ثابت کرتا ہے۔
ایک قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ دبئی کے امیر طبقے کی اوسط عمر دنیا کے دیگر مالی مراکز جیسے لندن، نیویارک یا سنگاپور کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ ہر پانچ میں سے ایک امیر غیر ملکی کی عمر 50 سال سے کم ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ نوجوان کاروباری طبقہ تیزی سے دبئی کو اپنا مالی مرکز بنا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق دبئی کی طرف دولتمندوں کی اس کشش کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ صفر یا انتہائی کم ٹیکس پالیسی، عالمی معیار کی پرتعیش زندگی، جدید انفراسٹرکچر، کاروبار میں آسانی اور جغرافیائی اعتبار سے ایشیا، یورپ اور افریقہ کے درمیان مرکزی مقام نے دبئی کو دنیا کے امیر ترین افراد کے لیے ایک مقناطیس بنا دیا ہے۔
بھارتی اور پاکستانی کاروباری طبقے کی بڑی تعداد دہائیوں سے دبئی میں سرمایہ کاری کر رہی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں یہ رجحان مزید تیز ہوا ہے، خاص طور پر جب سے دبئی نے گولڈن ویزا اور سرمایہ کار رہائشی اسکیمیں متعارف کرائی ہیں۔

