شام: اسد دور کے عہدیداروں کا پہلا مقدمہ دمشق میں شروع

IMG 20260426 WA1445


دمشق (اے پی/نمائندہ): شام میں سابق صدر بشار الاسد کے دور کے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے خلاف عبوری انصاف (transitional justice) کے تحت پہلا عوامی مقدمہ اتوار کو دمشق میں شروع ہو گیا۔
عدالت میں ایک سابق فوجی افسر عاطف نجیب (Atef Najib) کو ذاتی طور پر پیش کیا گیا جبکہ کئی دیگر ملزمان کی عدم موجودگی میں (in absentia) سماعت کی جا رہی ہے۔ عاطف نجیب شامی فوج کے برگیڈیئر جنرل اور سابق سیاسی سلامتی شاخ کے سربراہ تھے، جو 2011 میں درعا صوبے میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی قیادت سے منسلک ہیں۔ وہ بشار الاسد کے کزن بھی ہیں۔
ریاست کے زیر انتظام خبر رساں ادارے سانا کے مطابق، ان پر "شامی عوام کے خلاف جرائم” کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ مقدمہ دمشق کے پیلس آف جسٹس میں کرمنل کورٹ نمبر 4 میں چل رہا ہے۔
بشار الاسد، جن کی فیملی نے شام پر 50 سے زائد سال حکومت کی، اپنے بھائی ماہر الاسد سمیت 2024 کے آخر میں شام کے گرنے کے بعد روس فرار ہو گئے۔ دونوں کو روس میں ہی پناہ دی گئی ہے۔
شامی انصاف کے وزیر مظہر الویس نے کہا کہ یہ مقدمات متاثرین کے طویل انتظار کے بعد شروع ہوئے ہیں اور انصاف کا عمل منصفانہ ہوگا۔ یہ شام میں اسد دور کے بعد عبوری انصاف کا اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

متعلقہ پوسٹ