جنرل فیض حمید: چھلاوا، عامل اور مؤکل
یہ دن بھی دیکھنا تھے، وہ جن کے منہ میں زبان نہ تھی وہ بھی زبان درازی پر اتر آئے، وہ احسان مند جن کا سر اٹھتا نہ تھا وہ بھی بول پڑے، جن بتوں کو خود ہاتھ سے تراشا گیا انہوں نے بھی پتھر اٹھا لیے۔ صورت حال یہ کہ زبانیں آگ اُگل رہی ہیں۔۔ الزام، دشنام اور بہتان۔۔…

